Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
اس سے پہلے کہ پاکستان کربلا بن جائے۔۔۔
طیبہ ضیاءچیمہ (نیویارک)
اس سے پہلے کہ پاکستان کربلا بن جائے اس کو دشمن کی گھناﺅنی چال سمجھ جانا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ پاکستان پیاسا مر جائے اسے زندگی کا سدباب کر لینا چاہئے۔ بھارت یزید ثانی ہے۔ پاکستان کو کمزور کرنے کےلئے ہر حربہ استعمال کر سکتا ہے۔ یزیدی قافلے نے امام حسین ؓ کو مطیع کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا تھا لیکن آپ ؓ کو مطیع نہ کر سکا۔ آپ ؓآخری لمحات تک اپنے موقف پر ڈٹے رہے حتیٰ کہ دشمن نے آپ پر پانی بند کر دیا۔ پانی بند کرنا دشمن کی آخری اور گھناﺅنی چال تھی لیکن وہ بری طرح ناکام رہا۔ واقعہ کربلا نے ثابت کر دکھایا کہ ایمان کی طاقت تمام طاقتوں پر غالب ہوتی ہے۔ واقعہ کربلا نے مسلمانوں کو زندہ رہنے کا سلیقہ سکھا دیا ہے۔ خودداری کا سبق پڑھا دیا ہے۔ پانی کے لئے بھارت کے ساتھ جنگ اگر جذباتی باتیں ہیں تو واقعہ کربلا سے بڑا جذباتی واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا۔ جذبات اور جنون کے بغیر منزل کا حصول ناممکن ہے۔ نام نہاد عقل والے پانی کو ترسیں گے تب انہیں بھارت کی سازش سمجھ آ ئے گی مگر جب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ پاکستان اندر باہر سے یزیدوں میں گھِر چکا ہے۔ ماہرین کہتے ہیںکہ پاکستان کا مستقبل خطرناک ہے۔ جنرل (ر) حمید گل کا بیان ہے کہ پانی کے مسئلہ میں بھارت کے ساتھ جنگ کرنے کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ جب بھی کوئی بھارت کے ساتھ جنگ کی بات کرتا ہے ”عقل والے“ اسے جذباتی اور خطرناک سوچ کہہ کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی شدت انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔ موت سامنے کھڑی ہو تو بندہ مرنے مارنے پر اتر آتا ہے۔ بھارت کے ساتھ جنگ اسی مرنے مارنے کا نام ہے۔ انسان زندگی کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مرغن کھانے اور کولڈ ڈرنک پینے والے فی الحال پیاس کے مفہوم سے لا علم ہیں۔ یہ طبقہ اس وقت ہوش میں آئے گا جب اس کے بچے دو بوند پانی کو تڑپیں گے۔ بھارت دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے پانی کو روکنے کے لئے درجنوں بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر میں مدت سے مصروف ہے۔کشمیر سے پاکستان کی طرف آنے والے تمام دریاﺅں کے پانی کارخ موڑنے کی گھناﺅنی سازش کر رہا ہے۔ اگر بھارت نے نئے ڈیم تعمیر کر لئے تو پاکستان کے ڈیم پانی سے محروم ہو جائیں گے۔ جھنگ، سندھ اور سرگودھا کے علاقے پانی کی کمی کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ پورے پاکستان کا مستقبل بھوکا پیاسا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ پاکستان کربلا بن جائے پاکستان کے حکمرانوں کو عملی اقدام اٹھانا ہوگا۔اس سے پہلے کہ پاکستان بنجر ہو جائے پاکستان کو ہوش میں آنا ہوگا۔بھارت پاکستانیوں کو بھوکا پیاسا مار دینا چاہتا۔ بھارت اور پاکستان میں دو جنگیں ہو چکی ہیں جس میں پاکستان کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر بھی جوں کا توں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پاک بھارت جنگیں پانی کے حصول کے لئے ہونگی اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں جنگ کو ٹالنے کا راستہ پانی کے چشموں سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان کی زراعت کا اہم ذریعہ دریا ہیں اور دریاﺅں کا پانی خشک ہو گیا تو زراعت بھی ختم ہو جائے گی۔۔۔ اور پھر بھوکے پیاسے لوگ ایٹم بم کی چُوری گوندھ کر کھائیں گے۔۔۔؟ زندگی بچانے کے لئے مردار بھی جائز ہے اورسترہ کروڑ جانوں کو بچانے کے لئے بھارت کے ساتھ جنگ مردار کھانے کے مترادف ہے۔سندھ اور پنجاب پانی کے مسئلے میں الجھا ہوا ہے۔ جب ملک کے اندر پانی کے لئے سر د جنگ چل رہی ہو وہ دشمن ملک کو پانی کے لئے کیسے راضی کر سکتاہے؟گھر کے اندر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ ملک میںڈیم بنانے پر اتفاق ہو جائے گا تو بھارت بھی اپنے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہو جائے گا۔ پاک بھارت مذاکرات اورملاقاتوں میں پاکستان کشمیر اور پانی کے مسائل پر بات کرتا ہے اور بھارت دہشت گردی کو روکنے پر زور دیتا ہے لیکن نتیجہ صفر۔۔۔ نہ پاکستان بھارت سے اپنے مطالبات منوا سکا اور نہ ہی بھارت پاکستان کو قائل کر سکا۔ پاکستان کے لئے کشمیرکا مسئلہ اتنا اہم نہیں رہا جتنا کہ پانی پر بھارت کی اجارہ داری کا مسئلہ نزاکت اختیار کر چکا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے حصوں میں آئے ہوئے پانی پر ناجائز ڈیموں کی تعمیر سے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ بھارت اگر پاکستان کو پیاسا مارنے کا خواہشمند ہے تو پاکستان بھی اسے بے موت مارنے کے لئے جنگ جیسا تباہ کن قدم اٹھانے پر مجبور ہو سکتا ہے اور بھارت پاکستان کی نفسیات کا دو بارتجربہ کر چکا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ کشمیر سے پاکستان کی طرف آنے والے دریاﺅں کا رخ موڑ دیا جائے۔ اگر بھارت کو اسکے ناپاک ارادوں سے نہ روکا گیا تو پاکستان کے ڈیموں کا پانی خشک ہو جائے ۔بھارت کو یزید ثانی بننے سے روکنے کا واحد ذریعہ اس کے ساتھ دو ٹوک بات ہے۔ بھارت نے امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کیا۔ اس کے ساتھ معاشی معاہدے کئے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہر طرح کے معاہدے کئے مگر نہ امریکہ نے بھارت کو سمجھایا اور نہ ہی سعودی بھائی جان نے پاکستان کی کھل کر وکالت کی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر اور پانی کے مسائل کو اقوام متحدہ میں بھی زیر بحث لایا جاتاہے لیکن ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔پاکستان خودکو تنہا محسوس کرنے لگا ہے۔ بھارت پاکستان کو تنہا کرنے کی سازش میں لگا رہا اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پاکستان کا پانی بند کرکے اسے مکمل طور پر مطیع کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں امام عالی مقام ؓ کی خودداری کا سبق یاد آ جاتا ہے۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔۔۔ پاکستان شاید کسی کربلا کا منتظر ہے۔ بھارت پاکستان پر پانی بند کر کے اسے مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتا ہے۔ پاکستان کے حکمران اپنا ضمیر بیچ چکے کیا عوام بھی اپنا ایمان بیچ دینا چاہتے ہیں۔۔۔؟ اس سے پہلے کہ دشمن انہیں بے موت مار دے۔ بھوک اور پیاس سے ان کی ہمت توڑ دے۔ دشمن تک پیغام پہنچ جانا چاہئے جو مسئلہ جائز طریقے سے حل نہ ہو سکے اسے طاقت سے منوانا پڑتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس کے وجود کو کبھی برداشت کر سکا ہے لہٰذا اسے اندر باہر سے تباہ کر دینا چاہتاہے۔ اس کی نسلوں کو بھوکا پیاسا مار دینا چاہتا ہے۔ پاکستان میںبجلی ہے نہ گیس۔۔۔ پانی بھی بند کر دیا گیا تو زراعت ختم ہو جائے گی۔۔۔ اس سے پہلے کہ پاکستان کو کربلا بنا دیاجائے پاکستان کو ہوش میں آجانا چاہئے۔۔۔
Posted in Articles, Politics
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles, Politics
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles, Politics
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles, Politics
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles, Politics
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles, Politics
Posted on 11 March 2010. Tags: Articles, columns, pk columns
Posted in Articles, Politics
Recent comments